مکئی

بہاریہ مکئی کی کاشت

تہذیبوں کے پروان چڑھنے ، ان کے پلنے اور قائم رہنے کے لیے اناج کی پیداوار اور اس تک رسائی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مکئی اناج کی تیسری بڑی قسم ہے جس کا نمبر گندم اور چاول کے بعد آتا ہے ۔ پاکستان میں مکئی1.08ملین ہیکٹر پر کاشت کی جاتی ہے۔

پاکستان میں آٹھویں دہائی کے وسط تک صرف موسمی مکئی ہی کاشت کی جاتی تھی تاہم صوبہ پنجاب میں ادارہ تحقیق برائے مکئی، جوار، باجرہ کے تحقیقی ماہرین کے اس خواب کو تعبیرتب ملی جب رفحان میظ پروڈکٹس کمپنی کو اپنی مِل سال بھر چلانے کے لیے سوچنا پڑا۔ سرکاری ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر کی اجتماعی کاوشوں نے حقیقت کا روپ دھارا اور مکئی کی بہاریہ کاشت نے پنجاب کے وسطی اضلاع میں رواج پکڑا۔

پاکستان میں بہاریہ مکئی نمونے کے طور پر ابھر کر سامنے آ چکی ہے۔ پاکستان اب بہاریہ مکئی کی کاشت کے لیے اس براعظم میں مشہور ہے جو پاکستان کے لیے طرہ امتیاز ہے ۔ اس افتخار کی اصل وجہ ایک اضافی موسم میں غیر روایتی اقسام یعنی ہائبرڈ مکئی کی کاشت کا رواج پایا جاناہے جو پیداوار میں اضافے کا اصل سبب ثابت ہوئی ہے۔ ہائبرڈ مکئی چونکہ عام مکئی سے 70سے 75فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہے اس طرح سے ہائبرڈ ہی ایک ایسا جادو ہے جو آپ کے ایک ایکڑ کو تین کے برابر لا سکتا ہے۔

یہ امر اس چیز کا متقاضی ہے کہ ہائبرڈکاشت کے لیے پیداواری سفارشات کو از سر نو مرتب کیا جائے تا کہ مکئی کے کاشتکاران پر عمل کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔ یہ سفارشات تحقیقی ماہرین کی سال ہا سال کی مسلسل کاوشوں کا نچوڑ ہے لہٰذا کسان بھائیوں کو چاہیےکہ ان سفارشات سے مستفید ہوں اور ان پر من و عن عمل کر کے اپنی مکئی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔
بہاریہ ہائبرڈ اقسام کا انتخاب

یہ امر مسلمہ حقیقت ہے کہ بہاریہ کاشت کے لیے تیار کردہ ہائبرڈ اقسام موسمی کاشت کے لیے تیار کردہ اقسام سے یکسر مختلف ہیں لہٰذا تحقیقی اداروں اور پرائیویٹ کمپنیوں کے ماہرین سے مشورہ کے بعد اپنے علاقے میں آزمائے ہوئے صحیح ہائبرڈ کا ہی انتخاب کیا جائے۔
وقت کاشت

پنجاب کے میدانی علاقوں میں 10جنوری تا آخر فروری کاشت مکمل کریںتاہم خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں میں آخر فروری تا 15مارچ بہاریہ مکئی کی کاشت مکمل کریںتاکہ فصل کے پھولوں پر آنے کے دوران گرمی کی لہر سے بچ کر ذیادہ فائدہ حاصل ہو سکے۔
زمین کا انتخاب اور تیاری

ہائبرڈ مکئی کی کاشت کے لیے کمزور کلراٹھی اور سیم زدہ زمین کسی طور موزوں نہیںلہٰذا پانی جذب کرنے والی نامیاتی مادے والی زرخیز زمین جس کے لیے آبپاشی کا خاطر خواہ انتظام ہو موزوں رہتی ہے ۔ مکئی کی کاشت کے لیے زمین ہموار ہو نیز نکاسی آب کے بندوبست والی زمین کا انتخاب بہتر رہتا ہے کیونکہ مکئی کی فصل کے لیے پانی کا کھیت میں کھڑا رہنا بھی نقصان دہ ہے۔ زمین کی تیاری کے لیے راﺅنی کے بعد وتر آنے پر گہرا ہل چلائیں ۔ اس کے بعد 2 سے 3 بار ہل اور سہاگہ چلا کر زمین نرم اور بھربھری کر لیں۔تاہم آخری ہل چلانے سے پہلے 2 بوری DAP، 20کلو گرام یوریا، ایک بوری پوٹاش بکھیر کر زمین میں مکس کر لیں۔ آخر پر68سینٹی میٹر پر ایڈجسٹ کیے گئے رجر (Ridger)سے شرقاََ غرباََ کھیلیاں نکا لیں۔
شرح بیج اور طریقہ کاشت

عام طور پر کمپنیاں 35000بیجوں پر مشتمل بیج کے تھیلے فروخت کرتی ہیںجن کو مناسب فنجائی کش اور کیڑے مار زہریںپہلے سے لگائی ہوتی ہیں۔ انتخاب کیے گئے بیج کو اگر زہر نہ لگایا گیا ہو تو کانفیڈور 7 گرام فی کلو گرام بیج کے حساب سے زہر لگائیںبصورت دیگر کسی اچھی کمپنی کے تیار کردہ کاربوفیوران کو بیج چوکوں کی صورت لگاتے وقت ساتھ ملا لیں اس طرح ایک ایکڑ کے لیے 8کلو گرام زہر درکار ہو گا۔

کاشت سے پہلے کھیت کو پانی لگا دیں اورکھیلی کے سر سے 5 سینٹی میٹر نیچے نمی کی لائن کے او پر جنوب والی سمت چوکے لگائیں۔ یہ ترکیب آپکی فصل کی آبپاشی کے لیے درکار پانی کی مقدار میں خاطر خواہ کمی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ پودوں کی جلد روئیدگی(Germinate) میں معاون ثابت ہو گی ۔ ایک اندازے کے مطابق اس انداز سے لگائی گئی فصل 5سے7دن جلد پک کر تیار ہو جاتی ہے۔

بیج لگاتے وقت پودوں کا درمیانی فاصلہ عام طور پر 20سینٹی میٹر رکھا جاتا ہے تاہم مخصوص ہائبرڈ کے لیے سفارش کردہ پودوں کی فی ایکڑ تعداد کے لحاظ معمولی ردو بدل کو ملحوظ رکھیں۔
کھادوں کا موزوں استعمال

یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کے ہائبرڈ اقسام کو عام اقسام کی نسبت زیادہ مقدار میں کھاد کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ہائبرڈ اقسام عام مکئی سے تین گناُ تک زیادہ پیداوار دیتی ہے لہٰذا موجودہ فصل کی بہتر پیداوار اور آئندہ زمین کی ذرخیزی کو برقرار رکھنے کے لیے مجموعی طور پر 100کلو گرام فاسفورسی، 200کلو گرام نائٹروجنی اور 100کلو گرام پوٹاش والی کھادفی ایکڑ درکار ہوتی ہے تاہم یوریا(Urea)کھاد کی سات اقساط بنانا لازم ہے۔ تاکہ کھاد پودے کا جزوبدن بن کر ذیادہ سے ذیادہ فائدہ دے سکے۔ اس تناظر میں پودے کے وجود اور اس کے لیے درکار کھاد کی مقدار کو سائنسی تحقیق کی روشنی میں ذیل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ اصول حصہ بقدر جُسہ کا مصداق بھی ہے۔ اس سے قبل یوریاکھاد کی صرف تین اقسام کی سفارش کسان بھائیوں کی سہولت کو مد نظر رکھ کر کی گئی تھی۔ نئی تحقیق کی روشنی میں تین اقساط متروک کر دی جائیں نیز فرٹیگس ڈرم اور ربڑ پائپ کی مدد سے کرنا بہتر رہے گا۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی

جڑی بوٹیاں مکئی کی فصل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ تیزی سے بڑھوتری کی طرف مائل ہائبرڈز کو عام اقسام کی نسبت زیادہ Inputsکی ضرورت ہوتی ہے جبکہ جڑی بوٹیاں فصل کے شروع کے ایام میںفصل کی زیادہ حق تلفی کرتی ہیں۔ کیونکہ اس وقت فصل کی بڑھوتری کے لیے مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کی وجہ سے فصل سست روی کا شکار ہوتی ہے، جڑی بوٹیاں اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تخمینے کے مطابق عام طور پر جڑی بوٹیاں 18سے21فیصد مکئی کی پیداوار گھٹا دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بیج بونے کے ساتھ ہی ایٹرازین زہر 600ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کر دی جائے۔ عام طور پر پرائمسکٹرا 400ملی لیٹر فی ایکڑکے حساب سے اچھا تدارک دیتی ہے۔علاوہ ازیںلائنوں کے درمیان جڑی بوٹیاںتلف کرنے کے لیے لسٹر ہل چلائیں۔ یاد رہے کہ اس عمل سے پہلے ایک بوری پوٹاش (دوسری قسط)ڈال دیں تاکہ اس عمل کے دوران کھاد مٹی کے ساتھ مکس ہو جائے۔
آبپاشی

نہری پانی یا متبادل بندوبست کے بغیر ہائیبرڈ مکئی کی کاشت ممکن نہیں ۔ البتہ اچھی بارش والے پہاڑی علاقوں میں جہاں مکئی کی کامیاب کاشت کی جاتی ہے وہاں ہائبرڈ مکئی کی کاشت ممکن ہے۔ بہاریہ کاشت ہو تو اگاﺅ کے 20سے25دن کے بعد پہلا پانی لگائیں۔ اس کے بعد سٹہ نکلنے تک 10سے 15دن کے وقفے تک پانی دیں۔ زیراپاشی پر دوبارہ لازماََ پانی دیںاور پھر 7 سے 8 دن کے وقفے سے آبپاشی جاری رکھیں۔ بہاریہ کاشت کے لیے 15تا16پانی چاہئیں۔ البتہ موسم (خریف)کاشت کے دوران پہلا پانی اگاﺅ کے10سے15دن بعد لگائیں۔ پھر حالات کے مطابق 10 سے 15 دن کے وقفے سے پانی لگائیں۔ زیراپاشی کے دوران پانی نہایت ہی ضروری ہے۔ موسم خریف میں 5تا 6بار آبپاشی کافی رہے گی۔
کیڑے مکوڑوں کا تدارک

بہاریہ کاشت کردہ مکئی کی فصل کو مکئی کے تنے کی مکھی (shoot fly)ذیادہ نقصان پہنچاتی ہے ۔ عام طور پر ہائیبرڈ بیج کو لگائے گئے کانفیڈورسے مکئی کی فصل اس کیڑے کے حملے سے2تا3ہفتے تک محفوظ رہتی ہے تاہم فصل کے چوتھے یا چھٹے ہفتے اس کیڑے کا شدید حملہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں کوئی بھی اچھا زہر کا سپرے کریں۔عام طور پر 250ملی لیٹر ایڈوانٹج (Advantage)کو 80سے100لیٹر پانی میں ڈال کر فی ایکڑ سپرے کرنے سے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔اسکے بعد اگر مکئی کے تنے پرکیڑوں کا حملہ سامنے آئے تو درج بالا ترکیب کو دہرایا جا سکتا ہے۔ تاہم فصل کے 12سے13پتوں یا اس کے بعد آنے والے حملے کو Carbfuronزہر کو 8کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے پودوں کی کونپلوں میں ڈالنے سے مﺅ ثر تدارک کیا جاتا ہے ۔
فصل کاٹنا ، خشک اور محفوظ کرنا

بہاریہ مکئی جون میں جبکہ موسمی مکئی وسط نومبر میں برادشت کے قابل ہو جاتی ہے ۔ تاہم بھٹوں کے پردوں کا خشک ہونا ، دانے کے اوپر ہلکا سا گڑھا بننا اور دانے کی نوک پر کالی تہہ کا مکمل ہونا فصل کے پکنے کی نشانی ہے۔ اگر پھر بھی پہچان میں دقت محسوس ہو تو دانے کو دانت کے نیچے دبا کر دیکھیںاگر دانہ دبنے کے بجائے ٹوٹ جائے تو فصل برداشت کے لیے تیار ہے۔ بھٹے توڑ کر صاف اورنیم سایہ دار جگہ پر ڈال کر خشک کریںتاکہ پھپھوندی اور کیڑوں کے نقصان سے بچاﺅ کیا جا سکے۔ بھٹوں سے علیحدہ کئے ہوئے خشک دانے نمی اور چوہوں کی پہنچ سے دور بوریوں میں ڈال کر محفوظ کر لیںاور فی بوری دو گولیاںایگٹاکسن(Agtoxin) ماچس کی خالی ڈبیا میں ڈال کر اور اوپر ململ کا کپڑا لپیٹ کر بوریوں میں ڈال دیںاور مکمل طور پر کمرے کو بند کر دیں۔
:مکئی کی پیداوار بڑھانے کے اہم نقاط

صرف اپنے علاقہ کے لیے سفارش کردہ ہائبرڈ اقسام کا انتخاب کریں۔

مکئی کی کاشت 60سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگائی گئی کھیلیوں پر کریں۔

مکئی کی بہاریہ کاشت میں پودوں کی تعداد 34سے 35ہزار فی ایکڑ رکھیں۔

پھول آنے سے دانے بننے تک مکئی کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔اس دوران ہفتہ میں دو بار ہاف آبپاشی کریں۔

کھادوں کا مناسب اور متوازن استعمال کریں بلخصوص یوریا کھاد کی سات اقساط بنائیں۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے مناسب زہریں استعمال کریں۔

Send this to a friend