تجزيہ, گنا

پاکستان گنا پیدا کرنیوالا دنیا کا پہلا بڑا ملک بن سکتا ہے

جدید تحقیق کے مطابق اگر رجر کے ذریعے گہری کھلیاں بنا کر گنے کی کاشت کی جائے تو بہاریہ فصل کی فی ایکڑ پیداوار840من اور ستمبر کاشتہ فصل سے 1150من اوسطا فی ایکڑ پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔

اس وقت پاکستان گنے کے زیر کاشت رقبے اور فی ایکڑ اوسط پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے پانچ اہم ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان میں گنے کی فی ایکڑ پیداوار 561من فی ایکڑ ہے لیکن یہاں ایسے کاشتکار بھی موجود ہیں جو گنے کی 1500من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ اس وقت برازیل میں گنے سے چینی کی یافت14.31فیصد ہے جبکہ ہمارے ہاں چینی کی یافت 9.37فیصد ہے، زرعی سائنس دانوں نے کماد کی ایسی اقسام وضع کی ہیں جن میں چینی کی ریکوری 12.55فیصد تک ہے اس لیے ہم نہ صرف گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ چینی کی ریکوری میں بھی اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے پانی کی کمیابی سب سے اہم مسئلہ ہے کیونکہ بہاریہ کاشتہ گنے کی فصل کو سال میں تقریباً 64ایکٹر انچ پانی درکار ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں آبپاشی کے لیے دستیاب پانی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ گنے کی آبپاشی کے ایسے طریقوں کو فروغ دیا جانا چاہیے جن کے ذریعے پانی کی بچت ممکن ہو۔

محکمہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ایوب تحقیقاتی ادارہ کے سائنس دانوں نے گنے کی متبادل کھلییوں میں آبپاشی کا طریقہ وضع کیا ہے جس کے ذریعے پانی کی 44فیصد تک بچت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس طریقے کو فروغ دے کر پانی کی بچت ممکن ہے اس طرح جس قدر پانی کی بچت ہوگی اسے دیگر فصلوں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا،گنے کی کاشت کے جدید طریقوں سے بھی گنے کی فی ایکڑ پیداوار ممکن ہے،تجربات کے مطابق اگر رجر کے ذریعے گہری کھلیاں بنا کر گنے کی کاشت کی جائے تو بہاریہ فصل کی فی ایکڑ پیداوار840 من حاصل ہوتی ہے ، ستمبر کاشتہ فصل سے 1150من فی ایکٹر حاصل ہوتی ہے جبکہ عام طریقے سے کاشتہ بہاریہ فصل کی فی ایکڑ پیداوار 650من اور ستمبر کاشتہ فصل کی 1000من فی ایکٹر پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔

ان عوامل کے علاوہ کھادوں کے متناسب اور بروقت استعمال ،جڑی بوٹیوں کی ابتدائی مراحل میں موثر تلفی، منظور شدہ اور زیادہ ریکوری والی اقسام کی کاشت سے بھی گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے پاکستان اس وقت چینی برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے گنے کی فی ایکڑ پیداوار اور چینی کی یافت میں اضافہ کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اورشوگر انڈسٹری کو مزید ترقی حاصل ہو اور ہماری زرعی معیشت کو بھی مستقل بنیادوں پر استحکام حاصل ہو سکے۔

Send this to a friend