سبزیاں

ادرک کی کاشت

ادرک کا پودا ایک سے اڑھائی فٹ تک لمبا ہوتاہے۔ اس کا قابل استعمال حصہ جڑ ہے جو کہ آلو ، ادرک، شکر قندی اور ہلدی کی طرح زمین میں پیدا ہوتی ہے۔ جڑ کے ٹکڑے ناہمواروچپٹے اور شاخ دار ہوتے ہیں۔ لمبائی دو انچ سے چار انچ اور چوڑائی نصف انچ سے تین انچ تک ہوتی ہے۔تازہ ادرک کا رنگ زردی مائل اور خشک ادرک کا سفید مائل ہوتاہے۔ ادرک کی تاثیر گرم وخشک ہوتی ہے۔ نظام ہاضمہ کی رطوبت میں تحریک پید ا کرکے قوت ہاضمہ کو تیز کرتاہے اور بھوک بڑھاتاہے۔ ادرک میں آکسیجن ہوتی ہے اسی وجہ سے یہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ خون کو بھی صاف کرتاہے۔ ریاح، قولنج کے لئے مفید ہے۔ ادرک سونٹھ کی شکل میں دمہ، کالی کھانسی ، پھیھپڑوں کی ٹی بی کے لیے مفید ہے۔ ادرک حافظہ کو بڑھاتا ہے دل ، جگر، پھیپھڑوں کو طاقت دیتا ہے۔ منہ کی بدبو ختم کرکے دانتوں اور مسوڑوں کو مضبوط کر تا ہے۔ ادرک میں خوشبو دار تیل پایا جاتاہے جو دل کے پھڑکنے کے مرض کے علاج کے لئے مفید ہے۔ معدہ کی تیزابیت کو ختم کرکے کھٹے ڈکاروں کو بند کرتا ہے۔ بہت سے جلدی امراض اور جوڑوں کے ناکارہ ذرات کو ختم کرتا ہے۔ باری کے بخار اور سردی سے ہونے والے بخاروں میں مفیدہے۔ ادرک کو منہ میں رکھ کر چپانا اور اس کو جوشاندہ کے طورپر شہد میں ملا کر استعمال کرنا لقوہ کے لیے مفید ہے ۔

تازہ ادرک میں 80.9فیصدپانی،2.3فیصد پروٹین، 0.9فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں ۔دیگراجزا میں کیلشیم ، فاسفورس ، آئرن ، کیروٹین، تھایا مین، ریبو فلاوین اور وٹامن سی شامل ہیں۔

ادرک گرم و مرطوب آب وہوا میں بہتر افزائش کرتاہے۔ پنجاب کا گرم اور خشک موسم ادرک کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر ادرک چین، برما، تھائی لینڈ ، مڈغاسکر اور بھارت سے آتاہے ۔چائے کی طرح ادرک بھی یہاں اگانے کی بجائے باہر سے منگوانا پڑتاہے۔

ادرک میرا اور درمیانی زمین میں بہتر افزائش کرتاہے اچھے نکاس والی زمین میں اس کی بہتر فصل پیدا ہوسکتی ہے۔ کلراٹھی، چکنی، ریتلی زمین اس کے لیے نامناسب ہے۔ جیسی زمین مکئی اور آلو کے لیے بہتر ہے اُسی میں ادرک بھی اگایا جاسکتاہے۔نہروں اور دریاؤں کے ساتھ ساتھ ایسی ٹھنڈی زمین جہاں سٹرابیری کاشت کی جاتی ہے وہاں ہلکی کوالٹی کا ادرک بھی اگایا جاسکتاہے۔ امرود کے چھوٹے باغات کے اندر ادرک کوکامیابی کے ساتھ اگایا جاسکتاہے۔نیزاسے مری، جہلم ، اٹک، شکر گڑھ ، بجوات اور کوئٹہ کے بعض علاقوں میں اگایا جاسکتاہے ۔کم زمینی تعامل والی میرا اور بھاری میرا زمین کے ساتھ چونکہ معتدل ومرطوب آب وہوا طلب کرتی ہے اس لیے وسطی پنجاب میں دریاؤں کے ساتھ ساتھ مثلاً لاہور، قصور اور شرقپور کے گردونواح میں لیچی اور دیگر پھلوں کے درمیانہ سائز کے باغات میں اس کی کامیابی کے کچھ امکانات موجود ہیں لیکن وسطی پنجاب میں اس کی وسیع پیمانے پر کاشت ممکن نہیں ہے۔ میدانی علاقوں میں ادرک فروری مارچ اور پہاڑی علاقوں میں مئی کے آخر تک کاشت کی جاسکتی ہے تاہم گرم اورخشک لوچلنے سے پہلے ادرک کاشت کرلینا چاہیے۔

ایک ایکڑ کے لیے دس تا پندرہ من گٹھیاں کافی ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ ہرگھٹی میں دوتین آنکھیں ہوں۔ زمین کی تیاری کیلئے دوتین دفعہ گہرا ہل چلا کر زمین کونرم کرلیا جائے اور پھر زمین کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ پندرہ بیس دن کے بعد راؤنی کرکے دوتین دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح بھربھرا کرلیا جائے ۔ ڈھیلے وغیرہ ختم کردئیے جائیں۔ زمین سے گھاس ، ڈنڈل روڑے اور فصلوں کے مڈھ وغیرہ چن کرباہر نکال دیں۔ زمین کو اچھی طرح ہموار کرلیا جائے۔ ادرک درج ذیل طریقوں سے کاشت کی جاسکتا ہے ۔

پہلے طریقہ میں ادرک کے ان دھلے اور مٹی لگے بیج کاانتخاب کرکے کم ازکم دو آنکھوں والے 25 تا 30 گرام کے ٹکڑے ہفتہ دس دن تک مرطوب ریت میں دبائیں۔ جب اس کی شاخیں تھوڑی تھوڑی پھوٹ آئیں تو کھیت میں منتقل کریں۔ تھوڑے تھوڑے پھوٹے ہوئے ٹکڑے نونو انچ کے فاصلہ پر ڈیڑھ فٹ کی لائنوں میں نصف انچ گہرائی پر کاشت کردیئے جائیں تو ایک ایکڑ میں کم ازکم 15 من بیج استعمال ہوتاہے۔ دوسرے طریقہ میں ادرک کو زیادہ سے زیادہ تین میٹر چوڑی اور چھ میٹر لمبی کیاریو ں میں کاشت کیا جائے۔ اگر زمین قدرے بھاری میرا ہو تو براہ راست زمین پر کاشت کرنے کی بجائے کھیلیوں کے کناروں پر کاشت کیا جائے ۔ کاشت کے فوراً بعدپہلاپانی لگادیا جائے۔ مئی جون کے گرم خشک موسم اور لو سے اس کو نقصان پہنچ سکتاہے۔ مئی اور جون کے دوران اسے پانی اور کھاد کی زیادہ سے زیادہ مقدار ڈالی جائے۔ زیادہ بارشی یعنی مون سون سیزن میں اچھی فصل ہوسکتی ہے۔ اگر جولائی اگست کے دوران کم بارشوں کی وجہ سے فضائی نمی کم رہے تو ادرک کی فصل اچھی پیداوار نہیں دیتی۔
عام طورپر فصل دسمبر جنوری میں پختہ ہوجاتی ہے۔ پختہ ہونے پر جب اس کے پتے زرد اور تنے خشک ہو جائیں تو ادرک کی گٹھیاں اکھاڑ لی جائیں۔ گٹھیاں پانی سے دھو کر اور ہاتھوں سے مل کر مٹی علیحدہ کر کے صاف کر لیں اور تھوڑی دیر دھوپ میں سکھا کر منڈی بھیج دیں۔ بہتر پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ اگر موسمی حالات بھی سازگار ہوں تو 80 تا 100 من ادرک پیدا ہو سکتا ہے۔

Send this to a friend